طارق عزیز ، کچھ خوشگوار یادیں ۔۔۔تحریر: انجینئر اصغر حیات

آہ ۔ ۔ ۔ طارق عزیز چلے گئے، ایک عہد ساز شخصیت ، عظیم دانشور ، وطن سے لازوال محبت اور ادب سے گہرا لگاو رکھنے والے ۔ ۔ طارق عزیز صاحب سے پہلی ملاقات دو ہزار گیارہ میں ہوئی جب ہم ان کے پروگرام میں بیت بازی کے مقابلے میں حصہ لینے گئے تھے، مجھے اور حسن علی مرزا کو میرپور یونیورسٹی کی طرف سے دو مرتبہ بزم طارق عزیز بیت بازی میں شرکت کا موقع ملا، دو ہزار گیارہ میں ہم چار مقابلے جیتنے کے بعد فائنل میں پہنچے اور پنجاب یونیورسٹی کو ہرا کر فائنل اپنے نام کیا ، دو ہزار تیرہ میں بھی اتنے ہی پروگرامز میں حصہ لیالیکن رنرز اپ رہے، دو ہزار گیارہ میں جب پہلی بار طارق عزیز صاحب سے ملاقات ہوئی تو وہ میک اپ روم سے باہر نکل رہے تھے، پروڈیوسر آغا قیصر نے ہمارا تعارف کروایا تو بڑی ہی گرم جوشی سے ملے، بڑا قد کاٹ ، گرج دار آواز طارق عزیز جو ٹی وی پر نظر آتے تھے قریب سے اس سے بھی زیادہ روب دار لگتے تھے، خوش لباسی ان پر ختم تھی، زیادہ تر قومی لباس میں ملبوس رہتے تھے، طارق عزیز صاحب الحمرا کے جس حال میں پروگرام ریکارڈ کرواتے تھے ، وہاں تین ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہوتی تھی ، لوگوں کی دلچسپی کا یہ عالمی ہوتا تھا کہ ہم جب بھی آٹھ دس مرتبہ اس شو میں گئے ہیں ہ میں کوئی سیٹ خالی نہیں ملی، لوگ راستوں میں سیڑھیوں پر بھی بیٹھ جاتے تھے ، طارق عزیز جب اپنے پروگرام کیلئے ہال میں داخل ہوتے تھے جب پردہ ہٹتا، طارق عزیز اپنے اسٹائل میں دوڑ کر سامنے آتے تو پورا ہال ان کے استقبال کیلئے کھڑا ہوجاتا اور تالیاں بجاتا، یہ سلسلہ دو سے تین منٹ تک جاری رہتا ، ایک میوزک کی آواز کے ساتھ تالیوں کی خاموشی ہوتی تو حال میں ایک گرج دار آواز گونجتی ۔ ۔ ۔ ابتدا ہے رب جلیل کے بابرکت نام سے جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے ۔

جاگتی آنکھوں سنتے کانوں آپ کو طارق عزیز کا سلام قبول ہو ۔ ۔ ۔ شعرو شاعری سے ان کا لگاو کسی سے ڈھکا چھپا نہیں تھا، انہیں شعروں کا انسائیکلوپیڈیا کہتے تو لوگوں کو سنا تھا ، میں نے اور حسن علی مرزا نے خود بیت بازی مقابلے میں مشاہدہ کیا، وہ ردیف کے حملے نہیں کرنے دیتے تھے کہ شعروں کا معیار گر جائے گا، اچھا شعر پڑھو تو ان اندر سے آواز نکلتی تھی ۔ ۔ ہائے خائے خائے ۔ ۔ ۔ شعر کو غلط پڑھو، وزن گرا دو تو طارق عزیز کو اتنا غصہ آتا تھا جیسے کسی نے ان کی بے عزتی کردی ہو،لائیو پروگرام میں ڈانٹ دیتے تھے،ا ن کے پروگرام میں شرکت کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ ہ میں فیس بک اوروٹس ایپ سے موصول ہونے والے شعر بھلانے پڑے، مقابلے میں شرکت کیلئے شاعری کی بڑی بڑی کتابیں کھنگالنا پڑیں ، تین ہزار کے مجمے کے سامنے ویسے ہی بیت بازی کا مقابلہ مشکل تھا، مقابلے کے جج ملک کے نامور شاعر ہوتے تھے، اوپر سے طارق صاحب کا شعروں کے ساتھ لگاو اتنا کہ مجھے تو یہ خوف تھا کہ کہیں غلط شعر پڑھوں تو طارق عزیزجوتی اتار کر نہ مار دیں ، ایک شو میں انہوں نے اپنا مجموعہ کلام ہ میں گفٹ کیا، ہمزاد دا دکھ ان کا پنجابی مجموعہ کلام تھا،وہ آج بھی ہماری لائبریری میں محفوظ ہے ، انہوں نے اردو شاعری بھی کی، اردو کا ان کا ایک شعر بہت مشہور ہوا جو اکثر وہ پڑھا کرتے تھے

ہم وہ سیاہ نصیت ہیں طارق کہ شہر میں
کھولیں دکان کفن کی تو سب مرنا چھوڑ دیں

لاہور کے ساتھ ان کی وابستگی اس قدر تھی کہ وہ اکثر اپنے پروگرامز میں ذکر کیا کرتے تھے، کہتے تھے لاہور نے انہیں بہت کچھ دیا ہے، ایک وقت تھا ان کے پاس خرچ کرنے کیلئے پیسے نہیں تھے لاہور نے انہیں ہر چیز سے نوازا ، ایک بار میں نے بیت بازی مقابلے میں یہ شعر پڑھا

یہ نہر اس کی ہے اس پر کنارہ اس کا ہے
وہ جس کے ساتھ ہے لاہور سارا اس کا ہے

یو ں لگا کہ جیسے اندر کا لاہوریا جاگ گیا ہو، لاہور کا جب بھی ذکر آتا تھا وہ یہ شعر ضرور پڑھتے تھے

شہر لاہور تیری رونقیں دائم آباد
تیری گلیوں کی ہوا کھینج کر لائی مجھکو

بزم طارق عزیز ایک فیملی پروگرام تھا، ہال میں کسی کو غیر اخلاقی بات یامعمولی سی حرکت کی اجازت نہیں دیتے تھے، ایک مرتبہ میوزک چیئر گیم کے دوران کسی نوجوان نے موبائل فون سے خواتین کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی، طارق عزیز صاحب کو اتنا غصے میں شائد میں نے پہلی مرتبہ دیکھا، اس نوجوان کو اسٹیج پر بلایا، موبائل چھینا اور گارڈز سے کہا کہ دھکے دے کر باہر نکال دو اور سختی سے کہا کہ اس طرح کی حرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی،اصلاح کی بات کرتے تھے اور بڑے جاندار انداز میں کرتے تھے ، اکثراوقات اپنی سیاسی زندگی کا ذکر بھی کرتے تھے ، ایک بار ہال میں کسی شخص کی بات پر غصے میں آئے تو کہنے لگے یہ تقریریں مجھے اچھی طرح آتی ہیں بھاٹی گیٹ پر کھڑے ہو کر ہزاروں کے مجمے سے خطاب کرچکا ہوں ، طارق عزیز ۱۹۹۷ کے الیکشن میں موجودہ وزیراعظم عمران خان سے بڑے مارجن سے جیتے تھے، میری حسرت رہی طارق عزیز کی سیاسی زندگی کی کوئی ویڈیو دیکھوں ،وہ جلسوں میں کیسے خطاب کرتے تھے، کیسے لگتے تھے، سوچتا ہوں سیاست ان کے بس کا کھیل نہیں تھا، ایک صاف ستھرے انسان کا سیاست میں کیا کام ،اچھاہوا سپریم کورٹ نے نا اہل کیا اوربعد میں سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلی ، بہترین اور اچھی سے اچھی آفر کے باوجود آخری دم تک پی ٹی وی کیساتھ منسلک رہے، سرکاری ٹی وی کو اپنا سسرال کہتے تھے، اکثرکہا کرتے تھے زندگی میں دو مرتبہ سسرال سے نکالا گیا، میں نے اور حسن علی مرزا نے ان کی وجہ سے عزت کمائی ، ایک بار میرپور یونیورسٹی کیلئے ٹائیٹل جیت کر لائے ، دوسری بار رنرز اپ رہے ، طارق عزیز اور ان کے پروڈیوسرآغا قیصر دور کی ٹیموں کا بہت خیال بھی کرتے تھے، بیت بازی کا مقابلہ چونکہ آخر میں ہوتا تھا تو ہم دوران پروگرام بھی حال میں بیٹھ کر شعر یاد کرتے تھے، جب بھی مقابلے میں شرکت کرکے واپس آتے تھے یہی پلان بناتے تھے ہمارے مقابلے ختم ہوجائیں گے تو ایک بار ضرور آئیں گے طارق عزیز سے ملیں گے، ان سے گپ سپ کریں گے ، ان کا انٹرویو کریں گے، ۲۰۱۳ میں یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوئے تو بس روزگار کی تلاش اور پریکٹیکل لاءف کی مشکلات میں پھنس کر رہ گئے، میں نے انجینئرنگ چھوڑ کر صحافت کا انتخاب کرلیا، بہت اتار چڑھاو آئے ،وقت تیزی سے گزر گیا، اچانک طارق عزیز کی رخصتی کی خبر ملی، دل اداس ہوگیا، ان کا ٹوءٹر کھنگالا تو آخری ٹوءٹ میں انہیں وقت کے تھمنے کا ذکرکرتے پایا، وہ رخصت بھی ایسے موسموں میں ہوئے کہ جب پہلے ہی کورونا کو وجہ سے فضا سوگوار تھی، اللہ تعالی ان کی مغفرت کرے، آمین

آپ یہ بھی پسند کریں گے