جرمن ، اطالوی سرمایہ کاروں ، صنعت کاروں کا علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار

جرمن اور اطالوی سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں نے سی پیک کے تحت فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ منیجمنٹ کمپنی (فیڈمک) کے ترجیحی خصوصی اقتصادی زون علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔ یہ بات فیڈمک کے چیئرمین میاں کاشف اشفاق نے اپنے دورہ یورپ کے دوران جرمن اور اطالوی سرمایہ کاروں کے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ پاک جرمن دوطرفہ تجارتی تعلقات کو وسعت دینے کی بڑی گنجائش موجود ہے اور جرمن سرمایہ کار پاکستان میں مختلف شعبوں خصوصاً فیٖڈمک میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی سے سرمایہ کاروں اور مینوفیکچررز کا وفد کاروباری مواقع تلاش کرنے کیلئے جلد پاکستان کا دورہ کرے گا اور فیڈمک انہیں اس ضمن میں ہر قسم کی مدد فراہم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ جرمنی ٹیکسٹائل، خاص طور پر ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کے لئے جدید مشینری برآمد کررہا ہے جس سے پاکستانی ٹیکسٹائل مینوفیکچررز کو اپنی مصنوعات کے معیار میں بہتری لانے اور کاروباری لاگت کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد جرمنی کیلئے پاکستانی ٹیکسٹائل کی برآمدات میں 16 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اسی طرح اطالوی سرمایہ کار ایل پی جی ، توانائی ، پن بجلی ، کان کنی ، زراعت مشینری ، فوڈ پراسیسنگ ، آٹوموٹو ، ٹیلی مواصلات ، آئل اینڈ گیس اور ماربل کے شعبوں سمیت مختلف شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کے خواہشمند ہیں۔ میاں کاشف اشفاق کا کہنا تھا کہ اطالوی سرمایہ کاری پاکستان کے لئے انتہائی اہم ہے اور ہم اطالوی سرمایہ کاروں کو تعاون اور سہولیات فراہم کرنے کے لئے ہر ممکن اقدام کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے وژن کے مطابق کاروباری آسانیوں کیلئے فیڈمک غیر ملکی اور مقامی مینوفیکچررز اور تاجروں کو ایک ہی چھت تلے تمام خدمات مہیا کررہی ہے۔ ایکسپورٹ پراسیسنگ زون میں تمام صنعتوں کو 10 سال کے لئے ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہو گا اور پلانٹس ، مشینری ، خام مال اور دیگر سازوسامان ڈیوٹی فری درآمد کیا جا سکے گا۔

چیئرمین فیڈمک کا کہنا تھا کہ علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی اور ایم تھری جیسے منصوبے مقامی طور پر تیار مال کی طلب میں اضافہ کرکے مقامی معیشت میں بہتری لا سکتے ہیں۔ طلب میں اضافہ سے نہ صرف موجودہ مینوفیکچرنگ صلاحیت سے بھرپور استفادہ کیا جا سکے گا بلکہ مینوفیکچرز اپنی صلاحیت میں اضافہ کی طرف بھی راغب ہوں گے، اس سے نہ صرف روزگار کے بہت سے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ٹیکس محصولات میں بھی اضافہ ہوگا۔

آپ یہ بھی پسند کریں گے