ترک صدر رجب طیب اردگان کے اظہار ہمدردی اور اظہار یکجہتی نے کشمیریوں کے حوصلے بلند کیئے ہیں، راجہ نجابت حسین

بریڈ فورڈ(نمائندہ خصوصی) جموں و کشمیر تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل (JKSDMI) کے چیئرمین راجہ نجابت حسین نے ترک صدر کے مسئلہ کشمیر کے بارے میں کشمیریوں کے موقف کی مسلسل اوربھرپور حمایت کرنے کا پرتپاک خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندوستانی مظالم کا شکار مظلوم اور حریت پسند عوام کے ساتھ ترک صدر رجب طیب اردگان کے اظہار ہمدردی اور اظہار یکجہتی نے کشمیریوں کے حوصلے بلند کیئے ہیں۔اپنے ایک بیان میں راجہ نجابت حسین نے کہا کہ رجب طیب اردگان نے اپنے سرکاری دورے کے دوران پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس سے اپنے خطاب میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ مسئلہ کشمیر تنازعہ یا جبر سے نہیں بلکہ انصاف اور مساوات کی بنیاد پر حل ہوسکتا ہے۔ ان کے اس خطاب میں مسئلہ کشمیر پر دوٹوک موقف پر ہندوستان کا واویلا اُس کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے۔ریاست جموں وکشمیر کے عوام مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ترک صدر کی طرف سے اس واضح حمایت کے لئے انتہائی مشکور ہیں۔

راجہ نجابت حسین نے کہا کہ طیب اردگان نے مسئلہ کشمیر کے معاملے پردرست نمائندگی کی ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان اور ترکی کی حکومتیں ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کو ان کا بنیادی حق خوارادیت دلانے کے لئے عالمی فورمز پر موثر انداز میں آواز بلند کرتی رہیں گی۔راجہ نجابت حسین نے کہا کہ ہندوستان نے گزشتہ سات ماہ سے مقبوضہ جموں وکشمیر کودنیا کی سب سے بڑی ”اوپن جیل“ میں تبدیل کر رکھا ہے، مقبوضہ جموں وکشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لئے ہندوستان نے مقبوضہ وادی میں ہندوؤں کو آباد کا جو منصوبہ بنا رکھا ہے، عالمی طاقتوں کا اس کا نوٹس لینا چاہے اور ہندوستان کو اس طرح کے ظالمانہ، جابرانہ اور غیر انسانی اقدامات سے روکنا ہو گا ورنہ خطے کے اندر پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ہو گا۔

آپ یہ بھی پسند کریں گے