کشمیری صحافیوں مسرت زہرہ ، گوہر گیلانی اور پیرزادہ عاشق پر مقدمات فوری طور پر ختم کیے جائیں، راجہ سکندر

لندن (پی کے نیوز) چیئرمین عالمی پاکستان و کشمیر سپریم کونسل راجہ سکندر خان (جی پی کے ایس سی) اور صدر جی پی کے ایس سی کالا خان او ردیگر آفس ممبران کے ہمراہ کشمیری فوٹو جرنلسٹ مسرت زہرہ کے خلاف بچاؤ ایکٹ کے الزامات لگا کر حکومتی غیرقانونی سرگرمیوں کی شدید مذمت کی ہے۔پولیس نے 20 اپریل کو کہا تھا کہ اس نے ایک مقدمہ درج کرلیا ہے۔ مسرت زہرہ کے خلاف ، یو اے پی اے کی دفعہ 13 اور ہندوستانی تعزیرات ہند کی دفعہ 505 کے تحت سائبر پولیس اسٹیشن سری نگر میں مقدمہ درج ہے۔عالمی پاکستان اور کشمیر کی سپریم کونسل نےجموں میں تین کشمیری صحافیوں ، مسرت زہرہ ، گوہر گیلانی اور پیرزادہ عاشق کے خلاف حالیہ پولیس مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے صحافیوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو دھمکیوں اوران کے خلاف مجرمانہ کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

جی پی کے ایس سی کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اس طرح کے واقعات بنیادی حقوق اور آزادیوں کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ تینوں صحافیوںکے خلاف ر یاست کی دھمکیوں کا سلسلہ ہندوستانی حکومت کی طرف سے متصادم آوازوں کو دبانے کے رجحان کو ظاہرکرتاہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ بطور فوٹو جرنلسٹ مسرت زہرا اپنے سوشل میڈیا پر جموں و کشمیر میں میں خواتین اور بچوں کے معاملات کی رپورٹنگ کرتی رہی ہیں۔ ہم ہندوستانی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بڑے پیمانے کورونا کی وبا کی وجہ سےصحت عامہ کے عالمی حالات کے پیش نظر قید میں موجود تمام صحافیوں کو فوری طور پررہا کیا جائے ،جو ایک کثیر تعداد میں بہت خوفناک حالات میں پورے ہندوستان کی جیلوں میں قید ہیں۔

آپ یہ بھی پسند کریں گے